2016ء ترکی برطرفیاں

صدر رجب طیب اردوغان

ترکی میں ناکام فوجی تاخت کی کوشش کے بعد ترکی میں بڑے پیمانے پر لوگ اپنے عہدوں سے برطرف کر دیے گئے۔ 16 جولائی سے حکومتِ ترکی نے برطرفیوں کا آغاز کیا۔ اور 2745 ججوں کو برطرف کیا گیا۔ 20 جولائی 2016ء تک تقریباََ 50 ہزار عہدے داروں کو برطرف کیا گیا۔[1][2]

حوالہ جات

  1. "Turkey declares three-month state of emergency"۔ CNN۔ 2018-12-24 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-07-21
  2. انتباہ حوالہ: WashPost_35k کے نام کے حامل <ref> ٹیگ کی نمائش نہیں دیکھی جا سکتی کیونکہ اسے یا تو اس قطعہ سے باہر کسی اور جگہ رکھا گیا ہے یا سرے سے رکھا ہی نہیں گیا۔